ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امتناعی احکامات نافذ کر کے عوام کو تحریک چلانے سے روکا نہیں جاسکتا: جسٹس گوپال گوڑا

امتناعی احکامات نافذ کر کے عوام کو تحریک چلانے سے روکا نہیں جاسکتا: جسٹس گوپال گوڑا

Sat, 21 Dec 2019 12:47:05    S.O. News Service

بنگلورو، 21/ دسمبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ کے وظیفہ یاب جج وی گوپال گوڑا نے این آر سی اور شہر قانون کے ملک پر ہونے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیلئے ایل ایچ میں منعقد گول میز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ریاست میں امتناعی احکامات نافذ کر کے، پولیس فورس کا استعمال کر کے یا پھر انٹرنیٹ سرویس کو بند کر کے حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف جاری تحریک کو روک لگاسکتی تو حکومت یہ نظر یہ غلط ہے، اس طریقہ سے اب عوام کو حکومت کی ایسی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا نہیں جاسکتا۔

 ایل ایچ میں بھارتیہ ودھیارتی فیڈریشن کی جانب سے منعقد ہ اس گول میز کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس وی گوپال گوڑا نے کہا کہ حکومت کی کوئی بھی نئی پالیسی ہو، پروگرام ہو یا قانون اسے جاری کرنے سے پہلے اس سلسلہ میں عوامی حقوق کے دائرہ میں عوام کے نمائندوں سے مشورہ ضروری ہے، یہ حق ہمیں اس ملک کے دستور نے دیا ہے۔ لیکن عوام کو اس کے خلاف آواز اٹھانے سے روکا نہیں جاسکتا، حکومت کو یہ بات دھیان میں رکھنی چاہئے کہ جب ملک میں انٹرنیٹ کی سہولت ہیں نہیں تھی تو ایسے دور میں بھی عوام نے کئی کامیاب اور تاریخی تحریکیں چلا کر حکومت سے اپنے لئے انصاف طلب کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ 

انہوں نے کہا کہ شہریت قانون دستور ہند کے خلاف ہے۔ جمہوری نظام حکومت میں ذات کی بنیاد پر کوئی پالیسی بنانا ممکن نہیں ہے۔ امبیڈکر نے ملک کیلئے جو دستور تیار کیا تھا، اس دستور میں اب تک 110ترمیمات کی گئی ہیں اور ان ترمیمات کے ذریعہ عوام کا حق چھینا نہیں گیا بلکہ انہیں کئی آزادانہ حقوق اس ملک میں فراہم کئے گئے ہیں۔ 

شہریت قانون کے ذریعہ موجودہ مرکزی حکومت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندوؤ ں کو اس ملک کی شہریت دینے جارہی ہے لیکن اس ملک میں آج بھی مظالم کے شکار مسلمانوں کو اس سے باہر رکھا جارہا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر تیار کیا گیا یہ قانون دستور ہند کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ یہی نہیں آج سری لنکا میں 80لاکھ ہندو طبقہ پریشان کن حالات سے دوچار ہے، بھوٹان اور میانمار میں بھی یہی صورتحال ہے، اُن لوگوں کو اس حکومت نے کیوں نہیں اِس شہریت قانون کے دائرہ میں لایا ہے۔ 

آج شہریت قانون کے خلاف پورے ملک میں مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ حالات کا مقابلہ کرنے ریاستی حکومت نے امتناعی احکامات نافذ کئے ہیں، لیکن کیا امتناعی احکمات سے عوام کا ذہن بدلا جاسکتا ہے یا مظاہروں کو رکا جاسکتا ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر ریاست میں نافذ امتناعی احکامات واپس لے اور عوام کو اپنی رائے اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور ناراضگی جتانے کا پورا اختیار دیا جائے اور دستوری حقوق کی حفاظت کر کے ہر ایک کو دستوری حقوق کے تحت جینے کا موقع فراہم کیا جائے۔

 اس پروگرام میں سابق وزیر بی ٹی للیتا نائک، ایس ایف آئی کے گروراج دیسائی ادیب پلوی، کے ایس وملا، مہیندر کمار، جی این ناگراج اور دیگر ترقی پسند لیڈرس بھی موجود تھے۔ 


Share: